خدا تعالیٰ نے ہر نبی جو دنیا میں بیھجا اس پر ایمان لانے والوں کی آسانی کے لئے آسمانی نشان بھی ساتھ اتارے تاکہ بنی نوع انسان غوروفکر کرے اور ایمان لائیں - اللہ تعالیٰ نے حضرت مسیح موعود علیہ السلام مرزا غلام احمد قادیانی ؛بانیٗ سلسلہ عالیہ احمدیہ کی صداقت کے ثبوت میں بے شمار نشانات ظاہر فرمائے
ان میں سے ایک طا عون کے ہندوستان میں تباہی پھیلانے کے وقت آپکی سچی اطاعت و پیروی کرنے والے افراد جماعت کو اس تباہی سے بچنے کا نشان بھی ہے اور یہی اس کتاب کی وجہٗ تالیف ہے یہ ۵ اکتوبر ۱۹۰۶ کو شائع ہوئی اور اس کا دوسرا نام دعوۃ الا یمان اور تیسرا نام تقویۃالایمان بھی ہے اس کے ٹائیٹل پیج پر یہ تحریر ہے ”رسالہ آسمانی ٹیکہ جو طاعون کے بارے میں اپنی جماعت کے لیے تیار کیا گیا “
حضرت مسیح موعود علیہ السلام نے اس کتاب میں جماعت کی حقیقی تعلیم کے ساتھ ساتھ اسلام کی سچائی اور اس کے دلائل کی مضبو طی کو بھی بہت عمدگی کے ساتھ بیان فرمایا ہے اور اپنی ہر بات کو باقاعدہ دلائل اور امثال کے ساتھ پیش فرمایا ہے آپ کو سلطان القلم کہا جاتا ہے اس کتا ب میں آپ نے بہت سے موضوعات کو پیش کیا ہے جیسے خدا کی توحید ؛خدا کی بادشاہت ؛اسلام کی خوبصورت تعلیم اور اس کا موازنہ عیسائیت سے کر کے اسلام کو سچا دین دلائل سے ثابت کیا ہے ان موضو عات میں سے چند ایک یہ ہیں ؛
۱-ہمارا بہشت ہمارا خدا ہے
’’ہمارے خدا میں بے شمار عجائبات ہیں مگر وہی دیکھتے ہیں جو صدق اور وفا سے اس کے ہو گئے ہیں۔ وہ غیروں پر جو اس کی قدرتوں پر یقین نہیں رکھتے اور اس کے صادق وفادارنہیں ہیں وہ عجائبات ظاہر نہیں کرتا۔ کیا بدبخت وہ انسان ہے جس کو اب تک یہ پتہ نہیں کہ اُس کا ایک خدا ہے جو ہر ایک چیز پر قادر ہے۔ ہمارا بہشت ہمارا خدا ہے۔ ہماری اعلیٰ لذّات ہمارے خدا میں ہیں۔ کیونکہ ہم نے اس کو دیکھا اور ہر ایک خوبصورتی اس میں پائی۔ یہ دولت لینے کے لائق ہے اگرچہ جان دینے سے ملے۔ اور یہ لعل خریدنے کے لائق ہے اگرچہ تمام وجود کھونے سے حاصل ہو۔ اے محرومو! اس چشمہ کی طرف دوڑو کہ وہ تمہیں سیراب کرے گا یہ زندگی کا چشمہ ہے جو تمہیں بچائے گا۔ میں کیا کروں اور کس طرح اس خوشخبری کو دلوں میں بٹھا دوں۔ کس دَفْ سے میں باز اروں میں منادی کروں کہ تمہارا یہ خدا ہے تا لوگ سُن لیں اور کس دوا سے میں علاج کروں تا سُننے کے لئے لوگوں کے کان کھلیں۔‘‘
(کشتی نوح، روحانی خزائن جلد 19صفحہ 21۔ 22)
حضرت مرزا مسرور احمد خلیفۃالمسیح الخامس ایدہ اللہ تعالیٰ بنصرہ العزیز اس اقتباس کے بارے میں فرماتے ہیں
ان الفاظ کی تہہ میں کس قدر درد ہے۔ بلکہ کہنا چاہئے کہ ہر ہر لفظ میں درد کے کئی پہلو چھپے ہوئے ہیں۔ ہر لفظ کے کئی پَرت ہیں اور ہر پرت میں درد ہے اور ان کی گہرائی میں ہر ایک اپنے فہم اور ادراک کے لحاظ سے جاسکتا ہے لیکن جس حد تک بھی کوئی اپنی استعداد کے مطابق پہنچے گا روحانیت میں غیرمعمولی بلندی اور غیرمعمولی ترقی حاصل کرنے والا ہو گا۔
(خطبہ جمعہ ۲۴ مارچ ۲۰۱۷)
ایک اور جگہ حضرت اقدس مسیح موعود فرماتے ہیں -
… اگر کوئی عقلی دلیل زبر دست اُن کو ملتی تو وہ خدا تعالیٰ کے وجود کا انکار نہ کرتے۔ اور اگر وجود باری جلّ شانہٗ پر کوئی برہان یقینی عقلی انکو ملزم کرتی تو وہ سخت بے حیائی اور ٹھٹھے اور ہنسی کے ساتھ خدا تعالیٰ کے وجود سے منکر نہ ہو جاتے۔ …‘‘ (یعنی اگر ایسا کوئی یقینی اور عقلی ثبوت مل جاتا جو ان کا منہ بند کرانے کے لئے کافی ہوتا تو پھر وہ خدا تعالیٰ کی ذات پر ٹھٹھہ اور ہنسی نہ کرتے، اس کا انکار نہ کرتے جس طرح آجکل دنیا کی اکثریت کر رہی ہے۔ فرمایا ’’… پس کوئی شخص فلسفیوں کی کشتی پر بیٹھ کر طوفان شبہات سے نجات نہیں پا سکتا…‘‘ (پھر فلسفیوں کی بھی باتیں سننی ہیں یا ظاہری طور پرسائنس کو دیکھنا ہے یا روحانیت سے دور ہٹ کے دیکھنا ہے تو پھر اللہ تعالیٰ کی ہستی کے بارے میں جو شبہات دل میں پیدا ہوتے ہیں ان سے تم نجات نہیں پا سکتے وہ تمہارے دل سے کبھی نہیں دور ہو سکتے) ’’…بلکہ ضرور غرق ہوگا…‘‘ (مزید دھریت میں ڈوبتا چلا جائے گا۔ ) ’’…اور ہر گز ہرگز شربت توحیدِ خالص اس کو میسر نہیں آئے گا۔ اب سوچو کہ یہ خیال کس قدر باطل اور بدبودار ہے کہ بغیر وسیلہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے توحید میسر آ سکتی ہے…‘‘ (توحید میسر نہیں آ سکتی جب تک ایک روحانی وسیلہ نہ ہو اور روحانی وسیلہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی ذات ہے۔) ’’…اور اس سے انسان نجات پا سکتا ہے۔ اے نادانو!جب تک خدا کی ہستی پر یقین کامل نہ ہو اُس کی توحید پر کیونکر یقین ہو سکے۔ پس یقیناسمجھو کہ توحید یقینی محض نبی کے ذریعہ سے ہی مل سکتی ہے جیسا کہ ہمارے نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے عرب کے دہریوں اور بد مذہبوں کو ہزار ہا آسمانی نشان دکھلا کر خدا تعالیٰ کے وجودکا قائل کر دیا اور اب تک آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی سچی اور کامل پیروی کرنے والے ان نشانوں کو دہریوں کے سامنے پیش کرتے ہیں۔ بات یہی سچ ہے کہ جب تک زندہ خدا کی زندہ طاقتیں انسان مشاہدہ نہیں کرتا شیطان اس کے دل میں سے نہیں نکلتا اور نہ سچی توحید اس کے دل میں داخل ہوتی ہے اور نہ یقینی طور پر خداکی ہستی کا قائل ہو سکتا ہے۔ اور یہ پاک اور کامل توحید صرف آنحضرت صلی اللہ علیہ و سلم کے ذریعہ سے ملتی ہے۔‘‘
(حقیقۃ الوحی، روحانی خزائن جلد 22صفحہ 120۔ 121)
الغرض ہر ایک نیکی کا تصور خدا تعالیٰ پر پختہ ایمان کے ساتھ مشروط ہے
۲-طا عون سے بچنے کی تد بیر
قرٓان کریم میں اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے کہ ”اللہ تعالیٰ کسی قوم کی حالت نہیں بدلتا جب تک وہ خود نہ بدلے “ اور یہی بات حضرت مسیح موعود علیہ السلام کو الہام میں بھی بتائی گئی (تذکرہ صٖفحہ ۲۶۱ ایڈیشن چہارم)اور انسان اپنے اندر پاک تبدیلی کیسے پیدا کر سکتا ہے اور کون لوگ طاعون سے بچائے جائیں گئے آپ نے جماعت کو اس سے آگاہ فرمایا -”اگر یہ سوال ہو کہ وہ تعلیم کیا ہے جس کی پوری پابندی طاعون کے حملہ سے بچا سکتی ہے تو میں بطور مختصر چند سطریں نیچے لکھ دیتا ہو ں (کشتی نوح)
آپ نے فرمایا ”واضح رہے کہ صرف زبان سے بیعت کا اقرار کرنا کچھ چیز نہیں ہے جب تک دل کی عزیمت سے پورا پورا عمل نہ ہو پس جو شخص میری تعلیم پورا پوراعمل کرتا ہے وہ اس میرے گھر میں داخل ہو جاتا ہے –یعنی ہر ایک جو تیرے گھر کی چار دیوار کے اندر ہے میں اس کو بچاؤں گا اس جگہ یہ نہیں سمجھنا چایئے کہ وہی لوگ میرے گھرکے اندر ہیں جو میرے اس خاک و خشت کے گھر میں بودوباش رکھتے ہیں بلکہ وہ لوگ بھی جو میری پوری پیروی کرتے ہیں میرے روحانی گھر میں داخل ہیں “
روز مرہ زندگی میں ہم اپنے اوپر کس طرح یہ تعلیم لاگو کر سکتے ہیں اس سلسلہ میں آپ نے اپنے آقا و مولیٰ محمد ﷺ کی تعلیمات کی طرف جماعت کی توجہ مبذول کرواتے ہوئے فرمایا ”بندوں پر رحم کرو اور ان پر زبان یا ہاتھ یا کسی تدبیر سے ظلم نہ کرو اور مخلوق کی بھلائی کے لیے کوشش کرتے رہو اور کسی پر تکبر نہ کرو گو ماتحت ہو اور کسی کو گالی مت دو گو وہ گالی دیتا ہو غریب اور حلیم اور نیک نیت اور مخلوق کے ہمدرد بن جاؤ تا قبول کئے جاؤ -“اس کی وضاحت ہمارے پیارے حضور نے اپنے ایک خطبہ میں اس طرح فرمائی -فرمایا کہ اگر اللہ سے رحم، درگزر اور بخشش مانگتے ہو تو خود بھی دوسروں کے غمخوار بنو، ان کی تکلیفوں کا خیال رکھو، ان کا بھی کچھ احساس اپنے دل میں پیدا کرو۔ اللہ کی خاطر ہمدردی کر رہے ہو تو اس کا رنگ ہی کچھ اور ہونا چاہئے۔ جب اللہ کی خاطر دوسروں سے نیک سلوک ہو گا تو یہ نیک سلوک اپنے مفادات متاثر ہونے سے کم نہیں ہو گا بلکہ اپنی فطرت کا حصہ بن چکا ہو گا۔ اور جب ایک دوسرے سے ہمدردی اور درگزر سے کام لے رہے ہوں گے تو یہ اس دنیا میں بھی جنت کا باعث بن رہا ہو گا اور اگلے جہان میں بھی ہمیں جنت کی خوشخبری دے رہا ہو گا۔
(۷ اکتوبر ۲۰۰۵خطبہ جمعہ )
حضرت مسیح موعود علیہ السلا م مزید فرماتے ہیں ”چاہئے کہ ہر ایک صبح تمھارے لیےگواہی دے کہ تم نے تقویٰ سے رات بسر کی اور ہر ایک شام تمھارے لئے گواہی دے کہ تم نے ڈرتے ڈرتے دن بسر کیا -دنیا کی لعنتوں سے مت ڈرو کہ وہ دھویئں کی طرح دیکھتے دیکھتے غائب ہو جاتی ہیں اور وہ دن کو رات نہیں کر سکتیں بلکہ تم خدا کی لعنت سے ڈرو جو آسمان سے نازل ہوتی اور جس پر پڑتی ہے اس کی دونو ں جہانو ں میں بیخ کنی کرجاتی ہے –تم اپنی نفسانیت ہر اک پہلو سے چھوڑ دو اور باہمی ناراضگی جانے دو اور سچے ہو کر جھو ٹے کی طرح تذلل کرو تا تم بخشے جاؤ –
تم اگر چاہتے ہو کہ آسمان پر تم سے خدا راضی ہو تو تم باہم ایسے ایک ہو جاؤ ایک پیٹ میں سے دو بھائی –تم میں میں سے زیادہ بزرگ وہی ہے جو زیادہ اپنے بھائی کے گناہ بخشتا ہے اور بد بخت ہے وہ جو ضد کرتا ہے اور نہیں بخشتا –سو اس کا مجھ میں حصہ نہیں –بد کار خدا کا قرب حاصل نہیں کرسکتا ؛متکبر اس کا قرب حاصل نہیں کر سکتا ؛ظالم اس کا قرب حاصل نہیں کر سکتا ؛خائن اس کا قرب حاصل نہیں کر سکتا –
۳-قرآن سے سچی محبت
حضرت مسیح موعود علیہ السلام نے اپنی کتاب کشتی نو ح میں بنی نو انسان کی ہدایت کے تین سر چشمے بتائیں ہیں –اور اپنی جماعت کو قرآن کی تعلیم پر من وعن عمل کرنے کی تلقین فرمائی ہے -
اول -قرآن
دوم - سنت
سوم حدیث
آپ فرناتے ہیں ”میں تمھیں سچ سچ کہتا ہو ں جو قرآن کے سات سو حکم میں سے ایک چھو ٹے سے حکم کو بھی ٹالتا ہے وہ نجات کا دروازہ اپنے ہاتھ سے اپنےپر بند کرتا ہے –سو تم قرآن کو تدبر سے پڑھو اور اس سے بہت ہی پیار کرو ایسا پیار کہ تم نے کسی سے نہ کیا ہو “
قرآن کے بارے میں فرماتے ہیں ”تمھارے لئے ایک ضروری تعلیم یہ ہے کہ قرآن مجید کو مہجور کی طرح نہ چھوڑ دو کہ تمھاری اسی میں زندگی ہے جو لوگ قرآن کو عزت دیں گئے وہ آسمان پرعزت پائیں گئے ؛ نوع انسان کے لیے روئے زمین پر اب کوئی کتاب نہی مگر قرآن “-(کشتی نوح )گویا قرآن کو ہدایت کا پہلا ذریعہ کہا ہے-
” اب آسمان کے نیچے فقط ایک ہی نبی اور ایک ہی کتاب ہے یعنی حضرت محمد مصطفی صلی اللہ علیہ وسلم جو اعلیٰ و افضل سب نبیوں سے اور اتم و اکمل سب رسولوں سے اور خاتم الانبیاء اور خیر الناس ہیں جن کی پیروی سے خدائے تعالیٰ ملتا ہے اور ظلماتی پردے اٹھتے ہیں اور اسی جہان میں سچی نجات کے آثار نمایاں ہوتے ہیں اور قرآن شریف جو سچی اور کامل ہدایتوں اور تاثیروں پر مشتمل ہے جس کے ذریعہ سے حقانی علوم اور معارف حاصل ہوتے ہیں اور بشری آلودگیوں سے دل پاک ہوتا ہے اور انسان جہل اور غفلت اور شبہات کے حجابوں سے نجات پاکر حق الیقین کے مقام تک پہنچ جاتا ہے۔‘‘ (براہین احمدیہ حصہ چہارم روحانی خزائن جلد 1 صفحہ 558-557 حاشیہ در حاشیہ نمبر ۳) ایک اور جگہ اسی مضمون کو اس طرح بیان فرمایا ”یعنی قرآن میں تین صفتیں ہیں اول یہ کہ جو علوم دین لوگوں کو معلوم نہیں رہے تھے ان کی طرف ہدایت فرماتا ہے۔ دوسرے جن علوم میں پہلے کچھ اجمال چلا آتا تھا ان کی تفصیل بیان کرتا ہے۔ تیسرے جن امور میں اختلاف اور تنازع پیدا ہو گیا تھاان میں قول فیصل بیان کر کے حق اور باطل میں فرق ظاہر کرتا ہے۔‘‘
(براہین احمدیہ روحانی خزائن جلد1 صفحہ225 حاشیہ نمبر11)
’اگر ہمارے پاس قرآن نہ ہوتا اور حدیثوں کے یہ مجموعے ہی مایہ ناز ایمان واعتقاد ہو تے (اگر صرف حدیثوں پر ہی اعتقاد کرنا ہے) تو ہم قو موں کو شر مساری سے منہ بھی نہ دکھاسکتے۔‘‘ فرمایا: ’’مَیں نے قرآن کے لفظ میں غور کی تب مجھ پر کھلا کہ اس مبارک لفظ میں ایک زبر دست پیشگوئی ہے۔ وہ یہ ہے کہ یہی قرآن یعنی پڑھنے کے لائق کتاب ہے اور ایک زمانہ میں تو اَور بھی زیادہ یہی پڑھنے کے لائق کتاب ہو گی۔ جبکہ اور کتابیں بھی پڑھنے میں اس کے ساتھ شریک کی جائیں گی۔ اُس وقت اسلام کی عزت بچانے کے لئے اور بطلان کا استیصال کرنے کے لئے یہی ایک کتاب پڑھنے کے قابل ہو گی اور دیگر کتابیں قطعاً چھوڑ دینے کے لائق ہوں گی۔ فرقان کے بھی یہی معنی ہیں۔ یعنی یہی ایک کتاب حق وباطل میں فرق کرنے والی ٹھہرے گی اور کوئی حدیث کی یا او ر کوئی کتاب اس حیثیت اور پایہ کی نہ ہو گی۔ اس لئے اب سب کتابیں چھوڑ دو اور رات دن کتاب اللہ ہی کو پڑھو۔ بڑا بے ایمان ہے وہ شخص جو قرآن کریم کی طرف التفات نہ کرے اور دوسری کتابوں پر ہی رات دن جھکا رہے۔ ہماری جماعت کو چاہیے کہ قرآن کریم کے شغل اور تدبّر میں جان ودل سے مصروف ہو جائیں اور حدیثوں کے شغل کو ترک کریں۔ بڑے تأسّف کا مقام ہے کہ قرآن کریم کا وہ اعتناء اور تدارس نہیں کیا جاتا جو احایث کا کیا جاتا ہے۔ اس وقت قرآن کریم کا حربہ ہاتھ میں لو تو تمہاری فتح ہے۔ اس نور کے آگے کوئی ظلمت ٹھہر نہ سکے گی۔‘‘
(ملفوظات جلد 1صفحہ386۔ ایڈیشن 2003ء مطبوعہ ربوہ)
۴-وہ میری جماعت میں سے نہیں
آپ نے نیکی اور سچائی کے راستے بتانے کے بعد جماعت کو تنبیہ کی اور فرمایا ”ان سب باتو ں کے بعد پھر کہتا ہو ں کہ یہ مت خیال کرو کہ ہم نے ظاہری طور پربیعت کر لی ہےظاہر کچھ چیز نہیں خدا تمھارے دلو ں کو دیکھتا ہے اور اسی کے موافق تم سے معاملہ کرے گا دیکھو میں یہ کہہ کر فرض تبلیغ سے سبکدوش ہو تا ہوں کہ گنا ہ ایک زہر ہے اس کو مت کھاؤ –خدا کی نافرمانی ایک گندی موت ہے اس سے بچو دعا کرو تا تمھیں طاقت ملے جو شخص دعا کے وقت خدا کو ہر ایک بات پر قادر نہیں سمجھتا بجز وعدہ کی مستثنیات کے وہ میری جماعت میں سے نہیں –جو شخص جھو ٹ اور فریب کو نہیں چھوڑتا وہ میری جماعت میں سے نہیں – جو شخص دنیا کے لالچ میں پھنسا ہوا ہے اور آخرت کی طرف آنکھ اٹھا کر بھی نہیں دیکھتا وہ میری جماعت میں سے نہیں ہے جو شخص درحقیقت دین کو دنیا پر مقدم نہیں رکھتا وہ میری جماعت میں سے نہیں ہے –جو شخص پورے طور پر ہر ایک بدی سے اور ہر ایک بد عملی سے یعنی شراب سے قمار بازی سے اور بد نظری سےاور خیانت سے ؛رشوت سے اور ہر ایک ناجائز تصرف سے توبہ نہیں کرتا وہ میری جماعت میں سے نہیں ہے جو شخص پنجگانہ نماز کا التزام نہیں کرتا وہ میری جماعت میں سے نہیں ہے –جو شخص دعا میں لگا نہیں رہتا اور انکسار سے خدا کو یاد نہیں کرتا وہ میری جماعت میں سے نہیں ہے –جو شخص بد رفیق کو نہیں چھوڑتا جو اس پر بد اثر ڈالتا ہے وہ میری جماعت میں سے نہیں ہے جو شخص اپنے ماں باپ کی عزت نہیں کرتا اور امور معروفہ میں جو خلاف قرآن نہیں ہیں ان کی بات نہیں مانتا اور ان کی تعہد خدمت سے لاپرواہ ہے وہ میری جماعت میں سے نہیں ہے جو شخص اپنی اہلیہ اور اس کے اقارب سے نرمی اور احسان کے ساتھ معاشرت نہیں کرتا وہ میری جماعت میں سے نہیں ہے –جو شخص اپنے ہمسا یہ کو ادنی ادنی خیر سے محروم رکھتا ہےوہ میری جماعت میں سے نہیں ہے۔جو شحص نہیں چا ہتا کے اپنے قصوروار کا گنا ہ بخشے اور کینہ پرور آدمی ہےوہ میری جماعت میں سے نہیں ہے۔ہر ایک مرد جو بیو ی سے اور بیوی جو مرد سے خیانت سے پیش آتی ہے وہ میری جماعت میں سے نہیں ہے۔جو شحص اس عہد کو جو اس نے بیعت کے وقت کیا تھا کسی پہلو سے توڑتا ہےوہ میری جماعت میں سے نہیں ہے۔جو شحص مجھے فی الواقع مسیح موعود مہدی معہود نہیں سمجھتاوہ میری جماعت میں سے نہیں ہے۔جو شحص امور معرفہ میں میری ا طاعت کر نے کے لیے تیار نہیں ہےوہ میری جماعت میں سے نہیں ہےاور جو شحص مخالفوں کی جما عت میں بیٹھتا ہے اور ہاں میں ہاں ملاتا ہےوہ میری جماعت میں سے نہیں ہے۔ہر ایک زانی،فاسق،شرابی،خونی،چور،قمارباز،خائن،مرتشی،غاضب،ظالم،دروغ گو،جعل ساز،اور ان کا ہم نشین اور اپنے بھائیوں اور بہنو ں پر تہمتیں لگانے والا جو شحص اپنے افعال شنیعہ سے تو بہ نہیں کرتا اور خراب مجلسو ں کو نہیں چھو ڑتاوہ میری جماعت میں سے نہیں ہے۔یہ سب زہر یں ہیں تم ان زہروں کو کھا کرکسی طرح بچ نہیں سکتےاور تاریکی اور روشنی ایک جگہ جمع نہیں ہو سکتی.
۵-قرآن اور انجیل میں فرق
آپ نے قرآن کی پیاری تعلیم کو انجیل کی تعلیم سے موازنہ کر کے دنیا کے سامنے رکھا کہ اب دنیا خود فیصلہ کرے اور کھرے اور کھوٹے کی تمیز کرے چنانچہ ان میں سے چند درج ذیل ہیں.
۱-ٓپ فرماتے ہیں ”قرآن تمھیں انجیل کی طرح فقط یہ نہیںکہتا کہ اپنے بھائی پر بے سبب غصہ مت ہو بلکہ وہ کہتا ہے کہ نہ صرف اپنے ہی غصہ کو تھا م بلکہ تواصوابالمرحمہ(البلد- ۱۸)پر بھی عمل کر اور دوسروں کو بھی کہتا رہ کہ ایسا کریں اور نہ صرف خود رحم کر بلکہ رحم کے لئے اپنے تمام بھائیوں کو بھی وصیت کر-
۲-”قرآن تمھیں انجیل کی طرح یہ نہیں کہتا کہ بجز زنا کے اپنی بیوی کی ہر ایک ناپاکی پر صبر کرو اور طلاق مت دو بلکہ وہ کہتا ہے الطیبٰت للطیبین(النور-۲۷) قرآن کا یہ منشاٗ ہے کہ ناپاک پاک کے ساتھ رہ نہیں سکتا “–اس کے بعد آپ نے اس کی تشریح بھی بیان فرمائی اور حکمت بھی -
۳-”قرآن تمھیں انجیل کی طرح یہ نہیں کہتا کہ ہرگز قسم نہ کھا بلکہ بےہودہ قسمو ں سے تمھیں روکتا ہے کیو نکہ بعض صورتوں میں قسم فیصلہ کے لیےایک ذریعہ ہے اور خدا کسی ذریعہ ثبوت کوضائع کرنا نہیں چاہتا کیو نکہ اس سے اس کی حکمت تلف ہوتی ہے “-
۴-”قرآن انجیل کی یہ نہیں کہتا کہ اپنے دشمنوں سے پیار کروبلکہ وہ کہتا ہے کہ نفسا نی رنگ میں تیرا کوئی بھی دشمن نہ ہو اور تیری ہمدردی ہر ایک کے لیے عام ہو مگر جو تیرے خدا کا دشمن تیرے رسول کا دشمن اور کتاب اللہ کا دشمن ہے وہی تیرا دشمن ہو گا سو تو ایسو ں کو بھی دعوت اور دعا سے محروم نہ رکھااور چاہیے کہ تو ان کے اعمال سے دشمنی رکھےنہ ین کی ذات سےاور کو شش کریں کہ وہ درست ہو جائیں اور اس بارے میں فرماتا ہےان اللہ یامربالعدل و الاحسان و ایتا ی ذی القر بی۔
۵-ایسا ہی انجیل میں ہے کہ جب تو دعا مانگے تو اپنی کو ٹھر ی میں جا۔مگر قرآن سکھاتا ہے کہ اپنی دعا کو ایک مو قعہ پر پو شیدہ مت کرو بلکہ تم لو گو ں کے روبرواپنے بھائیوں کے مجمع کے ساتھ بھی کھلے کھلے طور پر دعا کیا کرو تا اگر کو ئی دعا منظور ہو تو اس مجمع کیلے ایمان کی ترقی کا موجب ہو اور تا دوسرے لوگ بھی دعا میں رغبت کر یں۔