میری اولاد کو تو ایسی ہی کر دے پیارے

دیکھ لیں آنکھ سے وہ چہرہ  نمایاں تیرا

عمر دے رزق دے اور عافیت و صحت بھی

سب سے بڑھ کر یہ کہ پا جائیں وہ عرفاں تیرا

 

میرا موضوع یہ ہے ورنہ آج جب انسان نے دنیاوی ترقی بہت زیادہ کر لی ہے تو یورپ ہو یا اشیا الجزائر ہو یا افریقہ ہر جگہ تربیتی مسا ئل  ایک جیسے ہیں اور قرآن اور احادیث میں حل بھی ایک  جیسے ہیں جو پائدار اور مظبوط بھی ہیں۔

جب ہم خدا تعالیٰ کے حضو ر اولاد کے خو اہشمند ہوتے ہیں تو والدین کے دل میں طبعی طور پر اپنی اولاد کے لیے خواہشات پیدا ہوتی ہے کوئی چاہتا ہے کہ میرا بچہ ڈاکٹر بنے –کوئی چاہتا ہے کہ میرا بچہ انجنئیر  ہو تو  کوئی چاہتا ہے کہ وہ بڑا سائنسدان بنے –لیکن مسیح موعود علیہ السلام اس معا ملہ میں ہماری راہنمائی کرتے ہوئے بیان فرماتے ہیں کہ ؛لوگ اولاد کی خواہش تو کرتے ہیں مگر نہ اس لیے کہ وہ خادمِ دین ہو بلکہ اس لیے کہ وہ دنیا میں ان کا کوئی وارث ہو اور جب اولاد ہوتی ہے تو اس کی تربیت کا فکر نہیں کیا جاتا نہ اس کے عقائد کی اصلاح کی جاتی ہے اور نہ اخلاقی حالت کو درست کیا جاتا ہے اللہ تعالیٰ نے قرآن میں اولاد کی خواہش کے ساتھ ہی دعا کا ذکر کر کے انسان کو یہ سمجھا یا ہے کہ پہلا ذریعہ تر بیت دعا ہے ارشادِ باری تعالیٰ ہے کہ وَاَصْلِحْ لِیْ فِیْ ذُرِّیَّتِیْ اِنِّیْ تُبْتُ اِلَیْکَ وَاِنِّیْ مِنَ الْمُسْلِمِیْنَ(الاحقاف: 16) کہ میرے لئے میری ذریّت کی بھی اصلاح کر دے۔ یقیناً مَیں تیری طرف رجوع کرتا ہوں اور بلا شبہ مَیں فرمانبرداروں میں سے ہوں۔ یہاں اولاد کی اصلاح کرنے کی دعا کی ہے تو ساتھ اس بات کا بھی اقرار کیا ہے کہ میں تیری طرف رجوع کرنے والوں اور فرمانبرداروں میں سے بنوں ۔ پس اولاد کے لئے جب دعا ہو تو اللہ تعالیٰ کے احکامات پر عمل اور اللہ تعالیٰ کی کامل فرمانبرداری ضروری ہے تبھی دعا قبول ہوتی ہے۔ پس ماں کی بھی اور باپ کی بھی بہت بڑی ذمہ داری ہے کہ بچوں کی اصلاح کے لئے، ان کی تربیت کے لئے مستقل اللہ تعالیٰ سے اپنی اولاد کی بہتری کے لئے دعا مانگتے رہیں اور اپنے نمونے اولاد کے لئے قائم کریں

اولاد تو خدا تعالیٰ کی ایک عظیم نعمت ہے اور مقدس امانت ہے جس کی تربیت کی ذمہ داری والدین کے سپرد کی گئی ہے؛ارشادِ باری تعالیٰ ہے یا ٓیھا الذین اٰمنوا قوا انفسکم و اہلیکم نارا (التحریم )اے لوگو  جو ایمان لائے ہو ؛اپنے آپ کو اور اپنے اہل وعیال کو آگ سے بچاوْ-ہمارے پیارے آقا نبی پاک ﷺکا فرمان ہے کہ ہر بچہ فطرت پر پیدا ہوتا ہے پھر اس کے ماں باپ اسے یہودی  مجوسی یا نصرانی بنا دیتے ہیں –قرآن مجید میں انبیاٗ کا ذکر اور ان کی پیدائش سے پہلے کی دعائیں بھی مذکور ہیں مثلاحضرت زکریا نے دعا کی اور انھیں حضرت یحیٰ علیہ السلام جیسے بیٹے سے نوازا گیا اٰلِ عمران کی عورت نے دعا کی تو حضرت مریم علیہ السلام جیسی عظیمالشان بیٹی ملی جس کی روحانیت کے مرتبے کو مومن کے لئے مثال بنایا گیا –حضرت  خلیفۃ المسیح الاول ؓکی مثال بھی دورِ حاضر میں موجود ہے کہ آپ کی والدہ آپ کی پیدائیش سے پہلے قرآن کریم کی کثرت سے تلاوت کرتی تھیں جس کا اثر آپکی شخصیت پر بہت گہرا تھا کہ آپ قرآن کے حقائق اور معارف پر مکمل دسترس رکھتے تھے بعض لوگ دعاوں پر اتنا یقین نہی رکھتے  مگر وہ یہ نہی جانتے کہ دعا کے اندر جو تاثیر پائی جاتی ہے وہ دنیا کی کسی اور چیز میں نہین پائی جاتی خود خدا تعالیٰ فرماتا ہےقل ما یعبو ا بکم ربی لو لا دعا وکم” تو کہہ دے کہ اگر تمھاری دعا نہ ہوتی تو میرا رب تمھاری کوئی پرواہ نہ کرتا-

 یہ بات ہمیشہ یا د رکھنی چاہیئے کہ کہ انسان خود بچے کی تربیت کر ہی نہی سکتا جب تک اللہ تعالیٰ کی مدد نہ ہو اور دعا کی قبولیت کے بھی اپنے تقاضے ہیں  ۔یہ انسانی فطرت ہے کہ وہ جب تک خطرہ  اپنی آٓنکھو ں سے دیکھ نہ لے وہ اس کا علاج نہی سو چتا ۔ اس سلسلے میں حضرت خلیفۃ المسح الربع رحمہ اللہ تعالیٰ نےچھ جولائی ۱۹۹۱میں جلسہ سالانہ کینڈامیں لجنہ سے خطاب  کرتے ہوئے آپ نے فرمایا جب بچیاں بڑی ہونے لگتی ہیں تو بچیوں کی نظریں بدلنے لگتی ہیں جب ان کے بالوں کے انداز ان کے کپڑوں کے انداز ان کی مسکراہٹیں ان کی دلچسپیاں اور انداز ظاہر ہو جاتے ہیں تو آپ کو اندازہ ہو جاتا ہے کہ انھوں نے اپنا رخ بدل لیا ہے اس وقت اگر آپ کچھ کریں تو کچھ نہی ہو سکتا ۔دعا سے کچھ نہ کچھ تو اثر پڑ سکتا ہے ۔لیکن ایسے بچوں کے حق میں دعائیں  نسبتاً کم قبول ہوتی ہیں اور ایسے بچو ں کے حق میں زیادہ قبول ہوتی ہیں جن کی ماوں کی دلی تمنا ان کو نیک بنانے کی ہوتی ہے ایسی بچیو ں کو دیکھ کر مجھے فکر لاحق ہو تی ہے کہ ان کی تربیت نہیں کی گیئ کیونکہ وجہ یہ ہے کہ ماں باپ نے اپنی بچیوں کو اپنی آنکھو ں کے سامنے پرورش پاتے ہوئے دیکھا ہے اور پرواہ نہیں کی ۔بعض کا معاشی اور علمی پسِ منظر کمزور ہوتا ہے اور اس کی وجہ سے وہ ماں باپ خود احساسِ کمتری کا شکار ہو تے ہیں وہ جب اپنے بچوں کو نئے نخروں کے ساتھ بلند ہوتے زیادہ اچھےتلفط سے انگریزی بولتے دیکھتے ہیں اور ایسے لباس پہنتے دیکھتے ہیں جو انھوں نے خواب وخیال میں کبھی نہیں دیکھے ہوتے تو وہ سمجھتے ہیں کہ یہ بچے تو زبردست بن رہے ہیں بہت ماڈرن اور عظیم الشان بچے ہیں وہ نہیں سمجھ رہےہوتے کہ یہ ان کے بچے نہی بن رہے بلکہ کسی اور کے بچے بن رہے ہیں ۔پھر حضور لجنہ سے سوال کرتے ہیں کہ آپ یہ بچے کس کے لیے پال رہی ہیں ؟محمدﷺکے لیے یا شیطانی طاقتو ں کے لیے اور دنیا پرستی کے لیے  آپ کی تو ساری دولت ہی یہ اولاد ہے یہی تو آپ کا مستقبل ہے اگر آپ اس کی اداوُں سے واقف  ہی نہی کہ یہ کیسی ہیں اور کدھر لیکر جارہی ہیں تو پھر آپ کو تربیت کا سلیقہ ہی نہیں ۔چنچانچہ دعا  کو پیدائیش سے پہلے اور بعد میں ہمیشہ جاری رکھنا چاہئے اور دعا کا بہترین ذریعہ نماز ہے ۔دعا کی طاقت بیان کرتے ہوئے حضرت مسیح موعود فرماتے ہیں ۔وہ جو عرب میں ایک عجیب ماجرا گزرا کہ لاکھو ں مردے   تھو ڑے دنو ں میں زندہ ہو گئے۔اور پشتو ں کے بگڑے ہوئے الہیٰ رنگ پکڑ گئے ۔اور آنکھو ں کے اندھے بینا ہوئے اور گونگو ںکی زبان پر الہیٰ معارف جاری ہوئے  اور دنیا میں ایک دفعہ ایک ایسا انقلاب پیدا ہوا کہ نہ پہلے اس سے کسی آنکھ نے دیکھا اور نہ کسی کان نے سنا ۔کچھ جانتے ہو وہ کیا تھا ؟ وہ ایک  فانی فی اللہ کی اندھیری  راتو ں کی دعائیں ہی تھیں جنھو ں نے دنیا میں شور مچا دیا اور وہ عجائب باتیں دکھلائیں کہ جو اس امی بیکس سے محالات کی طرح نظر آتی تھیں ۔یہ اقتباس خاص ان بہنو ں کے لیے  بھی مشعل ِ راہ ہے جو اپنے آپ کو یورپ میں نہ پڑھنے کی وجہ سے احساسِ کمتری کا شکار رہتی ہیں وہ دعاوُں کا سہارا لیکر اللہ کی مدد حاصل کر سکتی ہیں  ۔

غیر ممکن کو یہ ممکن میں بد ل دیتی ہیں

اے میرے فلسفیو ْ  زورِ دعا  دیکھو تو

دوسرا تربیتی ذریعہ ما ں باپ کا عملی نمونہ ہے ۔بچہ گھر میں ہر چھوٹی اور بڑی بات کو نقل کرتا ہے  جہاں بچہ ماں باپ کے قول و فعل میں تضاد دیکھتا  ہے تو آپ کی نصیحت کام کرنا چھو ڑ دیتی ہے اس کی طرف اشارہ کرتے ہوئے قرآن کی اس آیت میں اللہ تعالیٰ فرماتا ہے کبر مقتا عند اللہ ان تقولو ا ما لا تفعلون  ”اللہ کے نزدیک یہ بہت بڑا گناہ ہے کہ تم وہ کہو جو تم کرتے نہیں “(الصف)حضرت مسیح موعود علیہ السلام اس بارے میں فرماتے ہیں ”۔صالح اور متقی اولاد کی خواہش سے پہلے ضروری ہے کہ وہ خود اپنی اصلاح کرے ۔اور اپنی زندگی کو متقیانہ زندگی بنا دے تب اس کی ایسی خواہش ایک نتیجہ خیز خواہش ہو گی ۔اور ایسی اولاد درحقیقت میں اس قابل ہو گی کہ اس کو باقیات صالحات کا مصداق کہیں  “اگر آپ کے نمونے اس تعلیم کے خلاف ہیں جو اللہ تعالیٰ نے دی ہے، تو پھر اصلاح کی دعا میں نیک نیتی بھی نہیں ہوتی۔ اور جب اس طرح کا عمل نہ ہو تو پھر یہ شکوہ بھی غلط ہے کہ ہم نے اپنی اولاد کے لئے بہت دعا کی تھی لیکن پھر بھی وہ بگڑ گئی یا ہمیں ابتلاء میں ڈال دیا۔پیاری سامعات۔

آپ نے خود نہ صرف دینی تعلیم حاصل کرنی ہے بلکہ اس تعلیم پر عمل کر کے دکھانا ہے ۔صرف زبان سے کہہ دینا کافی نہی اس سلسلہ میں ایک کہاوت مشہور ہے کہ ایک عورت اپنے بچے کو لیکر ایک بزرگ کے پاس گئی اور بولی میرا بچہ گڑ بہت کھاتا ہے آپ اس کو منع کریں ۔وہ بزرگ بولے کل لے کر آنا وہ دوسرے دن لے کر گئی وہ بزرگ بچے سے مخا طب ہو کر بولے آیندہ گڑ نہ کھا نا عورت نے حیران ہو کر پوچھا بس آپ کل ہی یہ کہہ دیتے ۔بزرگ بولے کل میں نے خود گڑ کھا رکھا تھا ایک تو میں گناہ کرتا کہ جو خود کرتا ہو ں اس سے دوسرے کو منع کر رہا ہوں اور دوسرا میری بات کا اثر نہ ہو تا ۔

یا د رہے کہ فرانسیسی قوم کی ایک تاریخ ہے کئی سو سال با دشاہوں کی بد ترین محکوم قوم رہی ہے انقلابِ فرانس کے بعد  جو تعلیم بچو ں کو اس قوم نے دی ہے وہ اختلاف  کرنا سکھایا گیا ہے چاہے آپ کا موقف غلط ہے یا درست آپ سے کیوں کب اور کیسے جیسے سوالات کئے جاتے ہیں ۔لہذا ماوں کو ہر اسلامی حکم کی حکمت بھی  بتانی پڑے گی اور یہ کوئی نئی بات نہی کیو نکہ آپ اس رسول سے وابستہ ہیں جن کے متعلق قرآِ ن کریم میں ارشاد ہو تا ہے کہ یعلھم الکتب والحکمۃ  وہ محض  کتاب کی تعلیم نہیں دیتا بلکہ حکمتیں بھی بیان کرتا ہے ۔ساری زندگی آخحضورﷺ سے مختلف سوال کئے گئے ،چھو ٹے بھی بڑے بھی ،گہرے بھی اور بالکل سطحی بھی ایک واقعہ بھی ایسا نہیں ملتا کہ آپ سوالو ں سے تنگ آگئے ہو ں ہمیشہ جھک کر،شفقت و رحمت کے ساتھ ہر ذہن کو مطمئن کرانے کی کوشش کی ،۔یہی طریقہ بچو ں کے ساتھ رکھیں انھیں مکمل توجہ اور پیار سے اپنے ساتھ مانوس رکھیں۔

دینی تعلیم کے سا تھ ساتھ مائیں دنیاوی تعلیم کے سلسلہ میں بھی نظر رکھیں سکو ل کالج میں جب والدین کے ساتھ میٹنگ رکھی جاتی ہے مائیں ضرور جائیں اور ٹیچرز سے متعلق ہر مسئلے  کو سمجھیں اور جو مناسب حل ہے وہ نکالیں یاد رکھیں دنیاوی تعلیم تو  آپ کے بچے کو یہ معا شرہ  بہت  پرو فیشنل اورعمدہ طریقے سے سکھا دے گا آپ نے فکر دینی تعلیم کی کرنی ہے اس کا سب سے موثر ذریعہ قرآن ہے  ہم بچے کو قرآن پڑھا کر آمین کرو ا  کر  توجہ کم  کر دیتے ہیں ۔قرآن کے احکامات کو پڑھنا اور اس پر عمل سب سے ضروری ہے ؎ ۔آپ نے قرآن کے حکم ہی پڑھ کر نہیں سنانے بلکہ بچوں کے لیے مربی اور ،معلم  بھی بننا ہے ۔  اس معاشرے میں ایک برائی جس میں ہم بہت بری طرح پھنسے  چلے جا رہے ہیں وہ بے پردگی ،بد نظری، اور ایک خیالی آزادی کی ہلاک کن بیماریا ں ہیں ان سے بچنے کے لیے حضرت اقدس مسیح موعود علیہ السلام فرماتے ہیں اگر اس آزادی اور بے پردگی سے ذرا ان کی عفت اور پاکدامنی بڑھ گئی تو ہم مان لیں گئے کہ ہم غلطی پر ہیں لیکن یہ بات بہت صاف ہے کہ جب مرد اور عورت جوان ہو ں اور آزادی اور بے پردگی بھی ہو تو ان کے تعلقات کس قدر خطر ناک ہو ں گئے ۔اسی ہدایت کی مزید تشریح میں حضرت خلیفہ المسیح الخامس ایدہ اللہ تعالیٰ نے سالانہ جلسہ یو کے میں فرمایا یہاں یورپ میں وقتا فوقتا پردے کے خلاف ابال اٹھتا رہتا ہے اور فرانس اس میں پیش پیش ہے آپ بچیو ں نے اپنا تقدس قائم رکھنا ہے اگر سکول میں  مشکل ہے تو سکول کی حد تک تو سکارف اتر سکتا ہے لیکن اس کے بعد نہیں آپ کا مقام باقی بچیو ں سے علیحدہ ہے آپ نے اپنے آپ کو ان لغویات سے بچا کر رکھنا ہے اور جو اللہ تعالیٰ کے حکم ہیں ان پر عمل کرنا ہے آج جس طرح تم لو گ سر ڈھانپ کر بیٹھی ہو یہ دوغلی نہی ہونی چاہئے منافقت نہی ہو نی چاہئے باہر جاوُ بازار میں جاو شاپنگ کرنے جاو سیر کرنے جاو لڑکیو ں کے سر پر سکارف حجاب یا دوپٹہ ہو نا چاہئے ۔ آج اس بے پردگی کے نقصانات ہمارے سامنے کھل کر آرہے ہیں ہمارے سامنے دنیا میں ایک رو چلی ہوئی ہے کہ وہ عورتیں جن کے ساتھ زیادتی ہوئی ہے وہ اس کا اظہار کر رہی ہیں اور اس کی تعداد ہماری آنکھو ں کے سامنے آئے روز بڑھتی چلی جا  رہی ہے اور یہ ابھی وہ خواتین ہیں جو کہ طاقتور سمجھی جاتی ہیں تو سوچیں جو کمزور ہیں ان کاکیا حال ہو گا ۔جلسہ سالانہ یو کے ۲۰۱۹ کو لجنہ سے خطاب میں حضور نے لجنہ کی توجہ اس جانب کروائی کہ بغیر پردہ کے بازاروں میں  نہی پھرنا بننا سنورنا ہے تو صرف عورتو ں کے درمیان یا  پھر اپنے محرم رشتو ں کے سامنے یہ نہی کہ فلاں گھر کے ساتھ ہمارے فیملی تعلقات ہیں اس لیے ان  کے مردوں سے پردہ ختم اور بن سنور کر ان کے سامنے پیش ہوں اور غیر لوگو ں کے گھرو ں میں راتو ں کو رہنا لڑکا ہو یا لڑکی دو نو ں کے لیے مناسب نہی   اگر اب بھی ہماری خواتین اور بچیا ں اس بات کو نہ سمجھیں کہ یہ پردہ آپ کی خفاظت کے لیے ہے تو پھر وہ اس شعر کا ہی مصداق  بنتی ہیں کہ

ہم اپنا فرض دوستو اب کر چکے ادا

اب بھی اگر نہ سمجھو تو سمجھا ئیگا خدا

 

تیسرا تر بیتی ذریعہ نظامِ  جماعت سے وابستگی ،خلیفہ ٗ وقت سے ذاتی تعلق اور حضورِ انور کے خطبات باقاعدگی سے سننا ہے ۔

۔  پیارے حضور نے اپنے ایک خطاب میں جو سالانہ اجتماع  لجنہ اماٗاللہ بھارت  2017میں فرمایا ”اپنی سوچ اور دلچسپیوں کو حضرت مسیح موعود  علیہ السلام اور ان کے خلفاٗ  کی تعلیمات کے تابع  بنائیں ،اپنے اوقات کا مفید استعمال کریں ۔انٹر نیٹ اور سوشل میڈیا کا غلط استعمال عام ہوتا جا رہا ہے ۔اس لیے خود بھی بچیں اور اپنے بچوں کو بھی بچائیں ۔ایم ۔ٹی۔اے  دیکھیں ۔اور اپنے بچو ں کو بھی اس سے مانوس کر یں ۔میرے خطبات گھروں میں اکٹھے بیٹھ کر سنیں اور بعد میں بچو ں سے کچھ پوچھ لیا کریں ۔تا کہ اگلی دفعہ زیادہ غور سے سنیں ۔میرے نصائح کو یاد رکھیں اور ان پر عمل پیرا ہو نے کی کوشش کریں ۔پیار ی سامعات دنیا کے حالات جس تیزی سے کچھ دہائیو ں میں بدلے ہیں اس کے ساتھ ساتھ شیطانی طاقتیں بھی پہلے سے کئی تیز ہو چکی ہیں نئے نئے مسائل جنم لے رہے ہیں ترقی کے نام پر نئی نئی برائیا ں جنم لے رہی ہیں بلکہ ان برایئو ں کی تشہیر اتنے خوبصورت انداز میں کی جاتی ہے کہ درست اور غلط کی پہچان مشکل ہو چکی ہے ایسے میں خلیفہ وقت کی بر مو قع جماعت کوراہنمائی ایک بہت بڑی نعمت ہے کیو نکہ خلیفہٗ وقت کا ہاتھ وقت کی نبض پر ہو تا ہے ۔کس وقت جماعت کو کس قسم کی راہنمائی کی ضرورت ہے خدا تعالیٰ اپنے خلیفہ کی زبان سے جاری کروا دیتا ہے اب ہماری ذمہ داری ہے کہ ہم اپنے آپ کو اور اپنی آنے والی نسلو ں کو اس سے جو ڑیں ۔آخر پر میں اپنی تقریر کا اختتام حضرت مریم صدیقہ حرم حضرت خلیفۃ المسیح الثانی ؓ کے ایک خطاب سے اقتباس پر کرتی ہو ں جو آپ نے ۱۹۷۳ میں لجنہ اماٗاللہ سےکیا ۔ آپ فرماتی ہیں ۔آج جو مائیں ہیں ان سے التجا کرتی ہو ں کہ وہ اپنی بچیو ں کو دین سکھائیں قرآن پڑ ھا یئں ،قرآن کا ترجمہ پڑھائیں ان کے دلو ں میں پیدا کریں حضرت محمدﷺ اور حضرت مسیح موعود کی محبت پیدا کریں خلیفہ وقت کی اطا عت کا جذبہ پیدا کریں صاف دل بنائیں ان کے گھروں میں کپڑوں ،زیور ، سنگھار کی چیزو ں اور فرنیچر کی باتوں کی بجائے قرآن اور احادیث کا چرچا ہو ۔ایک دوسرے سے بڑھ کر دین کی خدمت کرنے کا ذکر ہو آپ کا فرض ہے کہ بچپن میں ان کے دلو ں میں ڈالیں کہ دنیا تمھارا مقصد نہیں ۔دین کو تم نے دنیا پر مقدم کرنا ہے ۔جب آپ اپنے  دنیاوی  مشاغل پر دینی مصروفیتو ں ،دینی مجالس ،دینی صحبتو ں کو ترجیح دیں گئ اور بچو ں کو بھی دینی  کامو ں کی طرف   متوجہ  کریں گی تو خودبخود  دین کی محبت ان کے دلو ں میں پیدا ہو گی اور دین کا پہلو غالب آتا جائے گا ۔انشائاللہ  

دعا کرتا ہو ں اے  میرے یگا نہ

نہ آوے ان پہ رنجو ں کا زمانہ

یہ ہو میں دیکھ لوں تقویٰ سبھی کا

جب آوے وقت میری واپسی کا


Magazine - Other articles